ہمارا تاریخی پس منظر

1930ء میں علامہ اقبال نے الہ آباد میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے باضابطہ طور پر برصغیر کے شمال مغرب میں جداگانہ مسلم ریاست کا تصور پیش کر دیا تھا۔ پھر چودھری رحمت علی نے اسی تصور کو 1933ء میں پاکستان کا نام دے دیا۔ جس کے اہم بنیادی نکات یہ تھے:

  1. آزاد مسلم حکومت کا قیام
  2. تقسیم کے علاوہ دوسری اسکیم کی نامنظوری
  3. ہندو علاقوں میں مسلمانوں کا تحفظ

یہ تحریک قائد اعظم محمد علی جناح کی ایماندار قیادت زیر سایہ سفر کرتی رہی۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی سیاسی کاوش کا مقصد ایک ایسی فلاحی ریاست کی تشکیل تھی جو اسلام کے عالمگیر اصولوں پر مبنی ہو، جہاں شہریوں کو بلا امتیاز حقوق مہیا کیے جا سکیں اور ریاستی نظام انصاف اور قابلیت کی بنیاد پر چلایا جائے۔

بالآخر پاکستان 1947 میں برصغیر میں مسلمانوں کی انتھک کوششوں اور قائد اعظم محمد علی جناح کی ایماندار قیادت کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا۔

ہماری نظریاتی بنیاد

قرآن پاک میں ارشاد باری تعالی ہے (وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا) اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور آپس میں متفرق نہ ہو . ال عمران 103 .

اس آیت کریمہ میں تمام مسلمانوں کو اتفاق کے ساتھ مجتمع رہنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے ، سب جانتے ہیں کہ اتفاق و اتحاد ہر قوم کی قوت کی ریڑھ کی ہڈی ہے ۔ اور آیت میں مضبوط پکڑنے کے ساتھ ساتھ ” جَمِيْعًا “ کی تاکید اور ” وَّلَا تَفَرَّقُوْا “ کی نہی نے یہ بات واضح کردی ہے کہ یہ چیز جماعتی حیثیت سے مطلوب ہے۔ لہذا اس آیت کو پارٹی نے بطور اصول عمل رکھا ہے ، کیونکہ اتحاد ہی سے ہر مشکل کام کو آسان بنایا جا سکتا ہے

بقول علامہ اقبال:

فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں

موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں