پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرینز ملک کے تمام اہم شعبوں میں مکمل اصلاحات کا منصوبہ پیش کرتی ہے۔ ہمارا اصلاحی ایجنڈا ملک کو حقیقی تبدیلی کی طرف لے جانے کے لیے ایک جامع منصوبہ ہے۔
ہمارا اصلاحی ایجنڈا
- آئین پاکستان کا اور تمام ملکی قوانین جو اسلامی دفعات پر مشتمل ہوں خصوصا ختم نبوت ﷺ اور ناموس رسالت کا تحفظ، اور جمہوری روایات کا فروع اور وفاقی پارلیمانی نظام کا تحفظ ۔
- جمہوری روایات کی بنیاد پر انتخابات ،انتخابات کے شفاف ، غیر جانبدار ،منصفانہ انعقاد کو یقینی بنانا۔
- آزاد عدلیہ اور قانون کی حکمرانی۔ اور ہر پاکستانی کو بنیادی حقوق کی ضمانت ، اور ریاستی تشدد ، ظلم و جبر کا خاتمہ ۔
- مکمل کرپشن کا سدباب، اور منتحب نمائندوں ، اور تمام اداروں کا بلا تمیز اور بے لا گ احتساب، اور مزید قانون سازی اور ٹھوس عملی اقدامات تاکہ کرپشن کا خاتمہ ہو ۔
- تمام صوبوں کو آئینی خودمختاری جو حقیقت پر مبنی ہو،اور اٹھارھویں آئینی ترمیم پر عمل اور مزید اقدامات۔
- بلوچستان، جنوبی پنجاب اورقبائلی اضلاع، اور دیگر عوامی محرومیوں کے مکمل خاتمہ کے لیے ٹھوس، حقیقت پر مبنی اور مستقل آئینی اورعملی اقدامات ، اور ان کے قدرتی وسائل میں ان کے جائز حصہ (رائلٹی ) کو یقینی بنانا۔
- تمام صوبوں میں اختیارات ، وسائل اور ترقیاتی فنڈز کی نچلی سطح تک عادلانہ تقسیم ۔
- انٹرمیڈیٹ تک دینی و دنیاوی تعلیم کو ایک نصاب تعلیم کی تشکیل،ہر طالب علم کے لیے قرآن و حدیث کی تعلیم لازمی اور دینی مدارس کے طلبہ کے لیے عصری تعلیم لازمی ۔
- نظام تعلیم کو ملک کی نظریاتی اساس سے ہم آہنگ بنانا، اور طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ،اور شرح خواندگی میں اضافے کے لئے مؤثر نظام، اور میٹرک تک تعلیم مفت اور لازمی۔
- ہر طالب علم کے لیے اعلیٰ تعلیم کا حصول اور انہیں تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی آسان کرنے کی سفارش۔
- نصاب میں ابتدائی طبی امداد ،خودحفاظتی اور ابتدائی زرعی وصنعتی مہارت شامل کرنے کی سفارش۔
- اُردو کو حقیقی معنوں میں قومی ، سرکاری ، تدریسی ،زبان کی حیثیت، اور سکولوں میں مقابلوں اور امتحانات اردو میں دینے کی سہولت، اور علاقائی زبانوں کے تحفظ کی ضمانت۔
- بچیوں کے لیے لازمی تعلیم اور ان کے لئے علیحدہ تعلیمی اداروں کا قیام ۔
- علم اور تعلیمی اخراجات پر توجہ، اور ہر صوبائی بجٹ میں تعلیم کے لیے کم از کم 25 فیصد مختص کرنے کی سفارش
- تعلیمی نصاب پر توجہ اور معیاری تعلیم اور فیسوں کے لئے ٹھوس اقدمات ۔
ایسی پالیسی کی تشکیل کہ استاذہ کے لیے ریٹائرمنٹ کے بعد ذاتی مکان کا حصول آسان ہو۔
- خواتین کو قرآن وسنت پر مبنی حقوق دلانا اور انھیں معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی قابل بنانا ۔
- غیر اسلامی معاشرتی رسموں مثلاً بھاری جہیز ، نکاح بیوگان سے غفلت اور غیر شرعی رسومات وغیرہ کا خاتمہ۔
- معاشرے میں انہیں وہ مقام دینا جو اسلام نے خواتین کو دیا ہے ۔او ر غیر ت کے نام پر قتل کا سدباب ، ایک ہی وقت میں طلاق ثلاثہ کی حوصلہ شکنی ۔
- خواتین کے لیےعلیحدہ میڈیکل کالجز اوریونیورسٹیوں کا قیام ،معاشی خوشحالی کے لیے گھریلو صنعتوں کافروغ۔ اور ان کے لیے علیحدہ سپورٹس کمپلیکس کا قیام ۔
- اقلیتوں کے جملہ حقوق کاتحفظ ، ان کی جان ،مال اور عبادت گاہوں کی حفاظت ۔
- شخصی معاملات میں ان کے مذہبی قوانین اور رسوم کو احترام ۔
- تعلیم ، روزگار اور دیگر شہریوں کی طرح حقوق میں مساوات ۔
- غیر مناسب سلوک ، اور جانبدارانہ ، غیر منصفانہ سلوک کا سدباب ۔
- نوجوانوں کے لیے باعزت روزگار کی فراہمی ، اور سرکاری ملازمتوں میں میرٹ کی لازمی اورکیرئیر کونسلنگ کاانتظام۔خود روزگار اسکیموں کے تحت آسان شرائط پر بلا سود قرضوں کی سفارش۔
- معذور نوجوانوں کے لیے روز گار، یا بے روزگاری فنڈز کی فراہمی ۔
- نوجوان کے لئے ذہنی و فکری اور خلاقی تربیت اور صحت مند تفریح، اور تربیت کااہتمام ۔
- کھیل وتفریح کے لئے مواقع فراہم کرنا ، صحت مند ثقافتی سرگرمیوں بالخصوص علاقائی ثقافت کا فروغ ۔
- صحت کے شعبے میں موجودہ بجٹ کو دوگنا کرنے کے سفارش۔
- تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی سہولیات اور سرکاری ہسپتالوں میں شام کے وقت بھی او۔پی ۔ ڈی ضروری، اور موذی امراض کامفت علاج جیسا کہ ٹی بی ، ہیپاٹائٹس، کنسر وغیرہ ۔
- تمام ضلعی و تحصیلی ہسپتالوں میں سپیشلسٹ ڈاکٹرز کی خدمات ۔
- ہیلتھ کیئرسینٹر ز کا قیام،اور بیمار کا ڈیٹا محفوظ کرنے کے لئے اقدمات۔
- تمام شہریوں کے لیے صحت کی اسلامی تکافل (انشورنس ) اسکیمیں ۔
- اندرون ملک معیاری اور سستی ادویات کی تیاری ۔ درآمدی ادویات کی مناسب قیمتوں کے لیے اقدامات۔
- ماحولیاتی آلودگیوں کے خلاف اجتماعی شعور کی بیداری ، ہر طرح کی آلودگیوں کا تدارک اور سدباب۔
- آزاد،خودمختاراور باوقار خارجہ پالیسی کی تشکیل۔
- مسلم ممالک سے تعلقا ت میں فروغ اور مسلم ممالک کے مؤثر اور مضبوط تعلقات کے لئے اقدمات ۔
- تمام ممالک،بالخصوص ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے اور پُرامن اور عدم مداخلت کی بنیاد پر تعلقات ۔
- کشمیر ،فلسطین کی بھرپور حمایت۔
- کشمیر کی بھارت سے آزادی اور اقوام متحدہ کی قرارداد وں کے مطابق رائے شماری ،ہماری خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہوگا ۔
- ہر قسم کی بیرونی مداخلت کا سدباب اور پاکستان کے دفاع کو مضبوط تر بنانا۔
- ایٹمی صلاحیت کاتحفظ اور پُرامن ترقیاتی مقاصد کے لیے ایٹمی توانائی کا فروغ ۔
- تمام بین الاقوامی معاہدات پارلیمان کی توثیق سے ہوں گے۔
- بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے ووٹ استعمال کرنے کی سفارش ۔
- بیرون ملک پاکستانیوں کے اندرون ملک بچوں کی تعلیم ،سیکورٹی ،ویلفیئر کی مؤثر اسکیموں اوران کی جائیدادوں کاتحفظ ۔
- بیرون ملک سے واپس آنے والے افراد کے لیے روزگار وکاروبار کی مؤثر اسکیمیں ۔
- ہوائی اڈوں پر عزت واحترام کی خصوصی ترجیح ۔
- بجلی چوری کرنے کی روک تھام ، اور نادہندگان سے وصولیاں ۔
- قومی اتفاق رائے سے نئے ڈیموں کی تعمیر۔ پن بجلی کے علاوہ ہوائی ،شمسی ، کوئلہ ،ایٹمی اور جیو تھرمل توانائی کا حصول ۔
- ملک میں پانی کی مجموعی کمی کے ازالہ کے لیے منصوبہ بندی ۔
- بھارت کی آبی دہشت گردی کا موثر قانونی اور انتظامی تدارک۔
- حقیقی صنعتی ترقی کے لیے مؤثر منصوبہ بندی، اورانڈسٹری زرعی صنعت اور ڈیری فارمنگ کافروغ ۔
- قومی اداروں کی نج کاری سے گریزاور انھیں نفع بخش بنانے کے اقدامات ۔
- درآمدات اور برآمدات میں توازن قائم کرنا بالخصوص برآمدی صنعت پر سے غیر ضروری ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کا خاتمے کی سفارش ۔
- سی پیک کے تحت قائم ہونے والے 129انڈسٹریل زونز کے ذریعہ بے روزگار نوجوانوں کے روز گار کا بندوبست ۔
- مزدوروں کی تنخواہوں اورمراعات میں مہنگائی کی شرح کے مطابق اضافہ ، صنعتی اداروں میں ٹھیکیداری نظام کا خاتمہ۔
- سوشل سیکورٹی اسکیم کے دائرہ کار میں وسعت ۔
- اولڈ ایج پنشن میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ ۔
- زرعی ترقی کے لیے مؤثر منصوبہ بندی ، اور زراعت کو بڑھانے کے لیے تحقیقی بنیادوں پر ٹھوس اقدامات۔
- زراعت پر غیر ضروری ٹیکسوں کے بوجھ کا خاتمہ، بلاسود زرعی قرضے ، اور مزارعین کے حقوق کاتحفظ۔
- بے زمین کسانوں اور ہاریوں کو بلا معاوضہ زمین، زراعت کے لیے بجلی ، پانی ، ڈیزل ، کھاد ، بیج اور زرعی ادویات کی سستے داموں فراہمی ۔
- سی پیک سے حقیقی استفادہ کی خاطر چین کی منڈیوں تک سبزیوں ، پھلوں و دیگراشیاء کی برآمدات ۔
- آزادی صحافت اظہار رائے پر پابندی نہ ہو،میڈیا کو دینی اخلاقی اورقومی مفاد کےخاطر صحیح استعمال ہو۔
- صحافیوں کی جان ، مال اور ان کے حقوق و مراعات کا مکمل تحفظ۔
- طلبہ ، نوجوانوں اور خواتین کی اخلاقی تربیت کامنظم ومربوط اہتمام۔
- منشیات کے استعمال کی روک تھام اور ترک منشیات کے اداروںکا قیام ۔
- ہرعلاقہ میں اسلامی اقدار ، اتحاد اُمت اوراسلامی معاشرت کے فروغ اور مصالحتی کردار ادا کرنے میں مسجد میں ممبر کا صحیح استعمال ۔
- جہیز اور دیگر غیر اسلامی رسوم کے خاتمے کے بعد غریب گھرانوں کے نوجوان لڑکے لڑکیوں کے لیے شادیوں میں آسانیاں ۔
