تحریک اصلاحات پاکستان پارٹی(جس کا چئیرمین ملک حبیب نور اورکزئی تھا اور وہی بانی ہیں) جس کا نام اب پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرین رکھا گیا ہے، جس کا مقصد ملک و قوم کی بہتری کے لیے ہر ممکن کوشش کرنا اور تمام اہل وطن کے باشندوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنا ہے۔
پارٹی کا پرچم دو رنگوں پر مشتمل ہے۔ پرچم کا اوپر والا حصہ سبز رنگ اور درمیان میں لال رنگ ہوگا، جس کے اوپر سفید رنگ میں چاند تارا ہوگا۔

ترقی کے لیے بنیادی عنصر ملک میں امن، امان اور اخوت ہے۔ جس ملک میں امن و امان ہو، بھائی چارہ ہو، وہاں دن دگنی رات چگنی ترقی ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده” (مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے)
ہمارا مقصد اسلامی اخوت کے اصول پر عمل کرتے ہوئے وطن عزیز میں بلا تفریق سب میں بھائی چارہ قائم کرنا اور قومیت، لسانیت، عصبیت سے پاک نوجوانوں کی تربیت کرنا ہے۔
جب معاشرے میں امن کی فضاء اور بلا تفریق اخوت قائم ہو تو ملک خود بخود ترقی کی طرف گامزن ہوتا ہے۔ جب سب کو یکساں ترقی کے مواقع میسر ہوں تو نہ کوئی جنگ وجدل ہوگی اور نہ ملک میں بدامنی۔
ہم وطن عزیز کو ترقی یافتہ ملک بنانے میں ہر ممکن کوشش کریں گے اور ملکی حالات کو اندرونی اور عالمی سطح پر اعلیٰ مقام تک پہنچانے کی کوشش کریں گے۔
ملک میں خوشحالی کے لیے امن اور ترقی بنیادی امور ہیں۔ جب معاشرہ امن اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو تو انسانی زندگی خوشحال اور پرسکون بن سکتی ہے۔ جس ملک میں ہر فیصلہ انصاف اور عدل پر مبنی ہو اور غریب و امیر کے لیے یکساں قانون ہو، تو معاشرے میں محبت، امن اور بھائی چارگی کی فضا پھیلتی ہے۔
ہم ملک میں خوشحالی کی فضا قائم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے تاکہ آنے والی نسلوں کی خوشحالی کی بنیاد مضبوط ہو سکے۔
پارٹی کی رکنیت کا فارم پر کرنے والا ہر شخص پارٹی کا ابتدائی رکن ہوگا، بشرطیکہ وہ کسی دوسری جماعت کا رکن نہ ہو اور اس کی عمر 18 سال سے کم نہ ہو۔
پارٹی کے تمام کارکن سالانہ ایک ہزار روپیہ جماعت کے فنڈ میں دیں گے۔
تمام عہدوں کے لیے انتخاب ہر 5 سال کے بعد ہوگا۔ انتخاب کا عمل مدت ختم ہونے سے 120 دن قبل شروع ہوگا۔
پارٹی کے پاس مرکزی سطح پر معاملات کی نگرانی کے لیے ایک مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی (CEC) ہوگی، جو فیصلہ سازی کا اعلیٰ ترین ادارہ ہوگی۔
پارٹی صوبائی اور مقامی ڈھانچے یا ابواب قائم کر سکتی ہے، جو مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کی رہنمائی میں کام کریں گے۔
پارٹی کے اندر انتخابات انٹرا پارٹی الیکشن کے ذریعے ہوں گے۔ انتخابات ملکی الیکشن قوانین اور الیکشن ایکٹ 2017 کے مطابق ہوں گے۔
- سالانہ رکنیت فیس فنڈز کا بنیادی ذریعہ ہوگی
- پارٹی کا ایک مرکزی بینک اکاؤنٹ ہوگا
- مالی سال 30 جون کو بند کیا جائے گا
- کسی NGO یا غیر ملکی ادارے سے عطیات قبول نہیں کیے جائیں گے
تین رکنی ڈسپلنری کمیٹی اختلافات کے حل اور نظم و ضبط قائم رکھنے کے لیے ذمہ دار ہوگی۔
کسی بھی ممبر کو ڈسپلنری کمیٹی کے فیصلے کے خلاف 7 دن کے اندر اپیل کا حق حاصل ہوگا۔
